تندرستی یا صحت بہت بڑی دولت ہے۔اگر تندرستی نہ ہو تو انسان کی زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اس دولت کی زیادہ قدر کی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اس کی حفاظت کی جائے۔اگر ایک بار تندرستی متاثر ہو جائے تو ساری زندگی متاثر ہوجا تی ہے،اور نہ تو انسان صحیح طرح سے حقوق اللہ ادا کرنے کے قابل رہتا ہے اور نہ حقوق العباد۔تندرستی قائم کرنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔ غذا کو ہضم کرنے کے لیے ورزش ممد ثابت ہوتی ہے۔ورزش سے جسم کی صحیح نشوونما ہوتی ہے۔بدن چست اور مضبوط ہوجاتا ہے،نہ صرف یہ بلکہ انسان ورزش کی مدد سے ہشاش بشاش رہتا ہے۔ جسمانی اعضاء اور پٹھے طاقتور ہوجاتے ہیں۔اگر صحت ہے تو کھانے،پینے، اٹھنے، بیٹھنے،کام کرنے،دوڑنے،کودنے اور عمل میں آسانی ہوگی اور خوشی کے ساتھ ہر کام کو ہم سر انجام دے سکیں گے لیکن اگر ہماری صحت خراب ہوگی تو کسی چیز میں لطف نہیں ہو گا۔صحت کی قدروقیمت کا اندازہ اُسوقت ہوتا ہے جب انسان بیمار پڑتا ہے۔
ورزش کے فوائد:
ورزش کے فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ہمیں ان کی اہمیت کا احساس ہوجائے تو ہم کبھی بھی ورزش ترک نہ کریں۔ہم نے آرمی کے لوگوں کو ہمیشہ تندرست دیکھا ہے تو آرمی کے لوگ اسی لیے تندرست اور توانا رہتے ہیں کہ وہ ساری عمر ورزش کرتے ہیں۔ورزش سے نہ صرف ہم تندرست نظر آتے ہیں بلکہ ورزش سے ہم اپنے ڈپریشن پر قابو بھی پا سکتے ہیں۔ہمارا دماغ صحت مند رہتا ہے۔ہمارے اعضاء نہ صرف زیادہ دیر تک ہمارا ساتھ دیتے ہیں بلکہ ہماری جنسی طاقت بھی ساری عمر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔اگر ہم ورزش کر تے ہیں تو کسی بھی مشقت والے کام سے ہمارا جسم تھکتا نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا سانس پھولتا ہے۔
ورزش نہ کرنے کے نتیجے میں ہم اپنے آپکو موٹاپے کی طرف مائل کرتے ہیں جس سے ہمیں مزید بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ہمارے بزرگوں نے اسی لیے لمبی اور صحت مند عمر یں پائیں کیونکہ وہ ساری عمر محنت اور مشقت کرتے رہے۔آج اگر لوگ ورزش کیلئے سائیکل چلاتے ہیں تو وہ لوگ اسے کام پر جانے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔آج اگر صبح کی سیر پیدل ہوتی ہے تو وہ لوگ کا م پر روزانہ پیدل جایا کرتے تھے۔وہ لوگ زمینداری جیسے محنت والے کام کرتے اور ہٹے کٹھّے رہتے۔آج ہم لوگ دفتروں میں محصور ہو چکے ہیں اور ہمارا معمول دفتر سواری پر جانا،واپس اکر کھانا کھانا اور پھر ٹی وی کے آگے بیٹھ جانا اور جو وقت بچ گیا وہ کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر ضائع کرنے میں گزرجاتا ہے۔
ایک اچھی صحت کے حصول کے لیے ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جو کرنے کے لیے کہا جائے،جیسے کہ کم کھانا،ورزش کرنا وغیرہ۔عموماً وہ لوگ جو خوش خوراک ہوتے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے مگر ہم ان تمام احتیاطوں کے باوجود کہیں نہ کہیں چور دروازہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جسکے ذریعے ہم سب کی نظر بچا کر کچھ نہ کچھ بداحتیاطی کرتے رہتے ہیں اور جسکے نتیجے میں ہم ایک اچھی صحت کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔لیکن آج کے اس آرٹیکل کے ذریعے میں آپکو ایسے بہت سے راستوں تک رسائی دے رہی ہوں جسکی وجہ سے آپکی صحت پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑے گا۔
۱ آپ کا دل:
آپکو اکثر بہت سے ورزشی پروگراموں میں آدھے گھنٹے کی پانچ دن ورزش کی ہدایت کی جاتی ہے مگر آپ میں سے اکثر اسکی ہدایت پر کم ہی عمل کرتے ہیں۔اسیلئے بجائے اسکے کہ آپ آدھے گھنٹے کی ورزش کریں۔اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ دس پندرہ منٹ کی روز واک کرلیا کریں۔یہ آپکی صحت کیلئے بہترین ہے۔
۲ آپ کا ناشتہ:
ہماری صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ہم صبح کم از کم ایک صحت مند ناشتہ کریں تاکہ ہمارے سارے دن کی انرجی کے ضائع ہونے کی صورت کا متبادل بن سکے مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہلکا پھلکا ناشتہ لیتے ہیں۔زیادہ تر ناشتے کو نظرانداز کر جاتے ہیں اسیلئے اس سے بہتر ہے کہ آپ امنے پاس سارے دن کی ضرورت کے لیے کچھ پھل رکھ لیں جیسے کہ ایک سیب،کیلے،کچھ خشک میوہ جات اور جوسز وغیرہ۔سیریل بارز بھی بہترین ہیں تاکہ آپ ضائع ہوجانے والی انرجی کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔
آپ کے پانچ دن:
آپکو روز کم از کم ایسے پھل اور سبزیاں کھانی چائی جو آپکو زیادہ سے زیادہ وٹامن اور منرلز فراہم کر سکیں لیکن زیادہ تر آپ ایسی چیزیں کھاپی نہیں پاتے اسیلئے بجائے اسکے کہ آپ مہنگے ترین پھل خریدیں،موسمی پھلوں سے کام چلائیں۔